چین اور اٹلی سے شروع ہونے والے کورونا وائرس نے دنیا بھر میں تباہی مچا رکھی ہے - کورونا وائرس کے مرض نے جب سے شدت اختیار کی ہے -تب سے ہی ماہرین کی جانب سے سینیٹائزر اور دستانوں کا استعمال لازمی قرار دیا جا رہا ہے -
لیکن ایک بات جو نظرانداز نہیں کی جا سکتی ۔ وہ یہ کہ سینیٹائزر میں الکوحل خاصی مقدار میں پایا جاتا ہے ، جس کی وجہ
سے شدید گرمی کے موسم میں گاڑی میں رکھنے سے آگ لگنے کا خطرہ بڑھ جاتا ہے -
سینیٹائزر اور گلوز بہت جلد آگ پکڑ لیتے ہیں - اور اگر انہیں گرم موسم کے دوران دھوپ میں رکھا جائے یا گاڑی میں ہی چھوڑ دیا جائے - تو ان میں آگ لگ سکتی ہے -
اگر سینیٹائزرز کو گاڑی میں ہی زیادہ درجہ حرارت میں رکھا جائے یا تیز دھوپ میں رکھ دیا جائے - تو دھماکہ ہو سکتا ہے - جس سے آگ لگ سکتی ہے -
ماہر صحت و ماحولیات جوڈ میڈارڈ کے مطابق سینیٹائزر میں 70 فیصد تک ایتھانول ہوتا ہے جو آتش گیر مادہ ہے - ایتھانول بہت کم درجہ حرارت پر کھولنے لگتا ہے - گرمیوں کے دنوں میں ہینڈ سینیٹائزر کی بوتل میں ایتھانول کے بخارات ایک بڑا دباؤ پیدا کرتے ہیں ، جو کئی باربوتل کے پھٹ جانے کی صورت میں خطرناک ثابت ہو سکتا ہے - اسی لیے ان سینیٹائزرز کو ہوادار اور ٹھنڈی جگہ پر رکھنا لازمی ہے -

0 تبصرے: